رنگ : ساحر کی غزلوں جیسا
لہجہ ۔۔۔ جیسے فیض کا مصرعہ
آنکھیں ۔۔ عمر خیام کا جادو
باتیں ۔۔ بلھے شاہ کے دوہے
اور آواز میں وارث شاہ کی ہیر سنانے کی خوشبو
کندھے سیمسن کی مانند
پناہیں اپالو جیسی
ہاتھ میں تیشہ اور قلم
یکساں مضبوطی سے تھامے
جب اک دن
میرا شہزادہ میرے سامنے آیا
تو میں آنکھیں میچے
ننگے پاؤں
واپسی کا ہر نقش مٹا کر
ساری دنیا چھوڑ کر
اس کے پیچھے چل پڑی
بیچ سفر میں جا کر یہ ادراک ہوا
وہ اتنا مکمل ہے کہ اسے
خود اپنے علاوہ اور کسی ہستی کا اقرار نہیں
وہ سب کچھ ہے ، سب کچھ لیکن
