پاؤں سے لہو کو دھو ڈالو


پاؤں سے لہو کو دھو ڈالو
ہم کیا کرتے کس رہ چلتے
ہر راہ میں کانٹے بکھرے تھے
اُن رشتوں کے جو چھوٹ گئے
اُن صدیوں کے یارانوں کے
جو اِک اِک کر کے ٹوٹ گئے
جس راہ چلے، جس سمت گئے
یوں پاؤں لہولہان ہوئے
سب دیکھنے والے کہتے تھے
یہ کیسی رِیت رچائی ہے
یہ مہندی کیوں لگائی ہے
وہ کہتے تھے، کیوں قحطِ وفا
کا ناحق چرچا کرتے ہو
پاؤں سے لہو کو دھو ڈالو!
یہ راہیں جب اٹ جائیں گی
سو رستے اِن سے پھوٹیں گے
تم دل کو سنبھالو جس میں ابھی
سو طرح کے نشتر ٹوٹیں گے

Popular Posts

recent

Total Pageviews

Search This Blog

Latest Posts

Logo

About News16

Etiam at libero iaculis, mollis justo non, blandit augue. Vestibulum sit amet sodales est, a lacinia ex. Suspendisse vel enim sagittis, volutpat sem eget, condimentum sem. Pellentesque eu interdum ex, tempus volutpat massa.

Advertisement

Ad 300x250

Search Blog

Join with us

Ad 728x90