کلام ۔ عبدُالحمید عدم
غم ہائے روزگار میں وہ دل کشی رہی
دنیا کی ہر خوشی سے ہمیں دشمنی رہی
منزل تمام عمر ہمیں ڈھونڈتی رہی
دو چار دن تو اس میں بڑی روشنی رہی
کشتی بڑے نیاز سے ضد پر اڑی رہی
اس گیسوئے دراز سے جب دوستی رہی
ان کو مرے خلوص سے کچھ بد ظنی رہ
