یہ سزا سزا بھی کمال ہے


مجھے شاخ شاخ سے توڑنا
پھر بیچ بیچ سے جوڑنا
یہ ادا ادا بھی کمال ہے
یہ سزا سزا بھی کمال ہے

یہ شام شام کے دھندلکے
اور قطرہ قطرہ سی بارشیں
مجھے پیاس پیاس میں ڈال کے
پھر دشت دشت میں چھوڑنا

یہ اداس اداس اداسیاں
اور دور دور کی دوریاں
مجھے اشک اشک بکھیر کے
پھر ہنس ہنس کر سمیٹنا

یہ آگ آگ کا کھیل ہے
اسے روز روز نہیں کھیلنا
مجھے ورق ورق کھولنا
پھر حرف حرف پہ سوچنا
یہ جفا جفا کے راستے
اور وفا وفا کی منزلیں
مجھے ڈھونڈ ڈھونڈ کے ڈھونڈنا
پھر چھوڑ چھوڑ کے چھوڑنا

وہ چہرہ چہرہ حجاب ہے
مرے درد درد کا علاج ہے
مجھے دور دور سے دیکھنا
یہ ادا ادا بھی کمال ھے 
یہ سزا سزا بھی کمال ھے

Popular Posts

recent

Total Pageviews

Search This Blog

Latest Posts

Logo

About News16

Etiam at libero iaculis, mollis justo non, blandit augue. Vestibulum sit amet sodales est, a lacinia ex. Suspendisse vel enim sagittis, volutpat sem eget, condimentum sem. Pellentesque eu interdum ex, tempus volutpat massa.

Advertisement

Ad 300x250

Search Blog

Join with us

Ad 728x90